
اسلام آباد ہائی کورٹ نے ڈریپ کے ڈاکٹر اختر عباس کو فارمیسی کونسل کے سیکریٹری کا اضافی چارج غیر قانونی قرار دے دیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے سیکریٹری فارمیسی کونسل کے اضافی چارج کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے دیا۔
جسٹس ارباب محمد طاہر نے فضل اللّٰہ فاروق کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ 15 جنوری 2026ء کا نوٹیفکیشن ضابطے کے بغیر غیر قانونی طور پر جاری کیا گیا، سیکریٹری کی تقرری کے لیے وفاقی حکومت کی منظوری اور مخصوص پیشہ ورانہ اہلیت لازمی ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کا کہنا ہے کہ سروس بائی لاز 2023ء کے تحت خالی عہدے پر اضافی چارج کونسل میں مساوی عہدہ رکھنے والے کو دیا جا سکتا ہے، ڈاکٹر محمد اختر عباس خان ڈریپ کے ملازم ہیں، فارمیسی کونسل کے ملازم نہیں ہیں۔
عدالت نے کہا ہے کہ ڈاکٹر محمد اختر عباس خان سروس بائی لاز کی شرط پر پورا نہیں اترتے، قانون میں کسی کام کے لیے خاص طریقہ کار مقرر ہو تو وہ اسی طریقے سے ہونا چاہیے۔



