
امریکی ریاست یوٹاہ سے تعلق رکھنے والی 15 سالہ لڑکی کو اغواء کے 500 روز سے زائد عرصے بعد آن لائن گیم کے ذریعے مدد حاصل کرنے پر بازیاب کروا لیا گیا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق 15 سالہ کائلی اریلیانو کو 39 سالہ ایڈم ہنٹر ہارمل نے اغواء کر کے ریاست اوریگن کے شہر ہنٹنگٹن میں اپنے گھر کے تہہ خانے میں قید کر رکھا تھا جہاں اسے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا اور گھر سے باہر جانے کی اجازت نہیں تھی۔
امریکی محکمۂ انصاف کے مطابق ملزم نے مئی 2025ء میں لڑکی سے آن لائن رابطہ کیا اور اسے رقم دینے کا لالچ دے کر اوریگن آنے پر آمادہ کیا، 29 مئی کو وہ لڑکی کو لینے یوٹاہ پہنچا اور راستے میں اس کا موبائل فون دریا میں پھینک دیا۔
ملزم نے لڑکی کو گھر کے تہہ خانے میں قید رکھا اور بعد ازاں اسے ایسا موبائل فون دیا جس میں موبائل نیٹ ورک کی سہولت موجود نہیں تھی تاہم وہ وائی فائی کے ذریعے انٹرنیٹ استعمال کر سکتی تھی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق لڑکی نے اسی سہولت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مشہور آن لائن گیم ’امَنگ اَس‘ کھیلنا شروع کی، اکتوبر کے وسط میں گیم کے دوران اس کی ایک دوسرے بچے سے بات چیت ہوئی جس کے بعد سوشل میڈیا پر رابطہ بڑھنے پر اس نے انکشاف کیا کہ اسے اغواء کر کے قید میں رکھا گیا ہے۔
دوسرے بچے کی والدہ نے معاملے کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے کو اطلاع دی، ادارے نے یکم نومبر کو لڑکی کی ویڈیو کال کے ذریعے نگرانی کی اور اس سے اغواء کی تفصیلات حاصل کیں۔
اسی روز اوریگن پولیس اور وفاقی اہلکاروں نے کارروائی کرتے ہوئے لڑکی کو بازیاب کروا لیا اور طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا۔
ملزم کو ٹریفک چیکنگ کے دوران گرفتار کر لیا گیا جبکہ اس کے گھر سے ایسی اشیاء بھی برآمد ہوئیں جن سے لڑکی کے بیان کی تصدیق میں مدد ملی۔
امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) کے سربراہ کاش پٹیل نے بتایا کہ یوٹاہ کے دفتر سے موصول ہونے والی معلومات کی بنیاد پر مقامی پولیس نے ڈیڑھ سال سے لاپتہ لڑکی کو باحفاظت بازیاب کروایا۔
ملزم ایڈم ہنٹر ہارمل پر لڑکی کو استحصال کے مقصد سے ایک ریاست سے دوسری ریاست منتقل کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔



