
پنجاب اسمبلی کے رکن اور پاکستان مسلم لیگ (ق) کے رہنما چوہدری خالد اصغر گھرال نے کہا ہے کہ ملک میں چھوٹے صوبوں کا قیام بہتر حکمرانی اور عوامی مسائل کے مؤثر حل کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے۔
گلاسگو میں چوہدری طارق گوندل کی جانب سے اپنے اعزاز میں دیے گئے عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے چوہدری خالد اصغر گھرال نے کہا کہ پنجاب کی آبادی 13 کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے جس کے باعث حکومت کے لیے پورے صوبے کے مسائل پر یکساں توجہ دینا اور عوام کے لیے سرکاری اداروں تک آسان رسائی مشکل ہو گئی ہے، پنجاب کو 3 یا 4 انتظامی صوبوں میں جبکہ دیگر بڑے صوبوں کو بھی انتظامی بنیادوں پر تقسیم کرنے پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔
چوہدری خالد اصغر گھرال نے مولانا فضل الرحمٰن کی حالیہ سیاسی سرگرمیوں پر تنقید کرتے کہا کہ موجودہ حالات میں ان کا کردار غیر ذمے دارانہ اور افسوس ناک ہے، ماضی میں وہ اسٹیبلشمنٹ کے سہارے تقریباً ہر حکومت کا حصہ رہے ہیں، اب حکومت میں شامل نہ ہونے کے باوجود انہیں ایک سینئر سیاسی رہنما کی حیثیت سے جمہوری اور پُرامن کردار ادا کرنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن بلوچستان اور خیبر پختون خوا میں سیکیورٹی کی سنگین صورتِ حال کے پیشِ نظر تمام سیاسی جماعتوں اور قیادت کو قومی مفاد میں مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ملکی استحکام کے لیے فوج سمیت دیگر ریاستی اداروں سے تعاون کرنا چاہیے۔
چوہدری خالد اصغر گھرال نے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ مشکل حالات میں بیرونِ ملک زندگی کا آغاز کرنے والے پاکستانی آج اپنی محنت، قابلیت اور دیانت داری کے باعث کاروبار، تعلیم، سیاست اور دیگر شعبوں میں نمایاں مقام حاصل کر چکے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ اوورسیز پاکستانی اپنی نئی نسل کو پاکستان، قومی ثقافت اور مذہبی اقدار سے جوڑے رکھنے پر خصوصی توجہ دیں۔
اس موقع پر چوہدری احسن گھرال نے کہا کہ بیرونِ ملک پاکستانیوں نے پاکستان میں سیلاب، زلزلوں اور دیگر قدرتی آفات کے دوران ہمیشہ فراغ دلی سے امداد کی ہے، اوورسیز پاکستانی ہر سال 40 ارب ڈالرز سے زائد زرمبادلہ وطن بھیج کر ملکی معیشت کو سہارا دینے کے ساتھ لاکھوں خاندانوں کی کفالت بھی کرتے ہیں، افسوس ناک امر یہ ہے کہ پاکستان آمد پر انہیں ایئر پورٹس سے گھروں تک مختلف مراحل میں مشکلات اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
تقریب کے میزبان چوہدری طارق گوندل نے کہا کہ اگر حکومت بیرونِ ملک پاکستانیوں کو مؤثر تحفظ فراہم کرے، سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرے اور ان کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرے تو وہ اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کے ذریعے ملکی معیشت کو نئی سمت دے سکتے ہیں۔
چوہدری خالد اصغر گھرال نے شرکاء کو یقین دلایا کہ میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے مسائل متعلقہ حکام کے سامنے اٹھاؤں گا۔



