
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیر جنگ ہیگسیتھ کی حمایت کا اظہار کر دیا۔
امریکی میڈیا کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکی انتظامیہ میں تبدیلی کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ ایران جنگ شروع کرنے پر کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابات میں ایران تنازع کے کردار کو تسلیم کرتے ہوئے کہا تھا کہ ریبلکنز کے کامیاب نہ ہونے کی ایک وجہ ایران تنازع تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ لوگ شاید پیٹرول کی قیمت کی صورت میں سامنے آنے والے قلیل مدتی نتائج بھگتنے کے لیے تیار نہیں تھے۔
امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹس کی جیت ہیگستھ کے مواخذے کی جاری کوششوں میں نئی روح پھونک سکتی ہے اور ممکنہ طور پر انتخابات کے فوراً بعد ہونے والی ووٹنگ میں مزید ریپبلکنز کو بھی اس میں شامل ہونے کے لیے قائل کر سکتی ہے۔
سینیٹرز ہیگستھ سے جنگ شروع کرنے کے فیصلے، جنگ کے طریقہ کار اور ان طریقوں پر باز پرس کرنا چاہتے ہیں جن کے ذریعے انتظامیہ نے کانگریس سے مشاورت سے گریز کیا، جنگ پر آنے والی لاگت سے بھی بے خبر رکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اگر یہ کوشش ناکام ہو جاتی ہے، تب بھی ڈیموکریٹس کا منصوبہ ہے کہ نئی کانگریس میں ایوان کی کمان ہاتھ میں آتے ہی وہ مواخذے کی بھرپور مہم کے ساتھ وزیرِ جنگ کو اپنا ہدف بنائیں گے۔
پیٹ ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی قرارداد کسی ڈیموکریٹ نے نہیں، بلکہ خود ان کی اپنی ریپبلکن پارٹی کے رکن کانگریس تھامس میسی نے ستمبر 2026ء میں پیش کی تھی۔
تھامس میسی کی قرارداد پر ریپبلکن قیادت نے سیاسی نقصان سے بچنے کے لیے ستمبر میں ایوان کا اجلاس وقت سے پہلے ہی ختم کر دیا تھا۔



