وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کے نام پر فراڈ کیا گیا، بے قاعدگیوں میں سی ڈی اے نے کوتاہی کی۔
اسلام آباد میں وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللّٰہ تارڑ اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ کابینہ کے سامنے آج جے آئی ٹی رپورٹ پیش کی گئی، جس میں ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کی دوبارہ نیلامی کی سفارش کی گئی ہے اور کہا گیا کہ عمارت کا نیا نام رکھا جائے۔
احسن اقبال نے کہا کہ ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کے متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی کی جائے گی، نیب کی تحقیقات میں سی ڈی اے سمیت جو کوئی بھی غیر قانونی کام میں ملوث ہوا اسکے خلاف کارروائی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ منصوبے میں نیلامی کے عمل میں ہیر پھیر اور قواعد میں نرمی کی گئی، قواعد میں نرمی کسی کو فائدہ پہنچانے کے لیے کی گئی تھی، سی ڈی اے نے اس پورے معاملے میں کوتاہی بھرتی اور ملوث پایا گیا، منصوبے کی کاغذی کارروائی بھی مشکوک اور جعلسازی پر مبنی تھی۔
وفاقی وزیز نے کہا کہ جے آئی ٹی نے عبدالحفیظ شیخ اور سی ڈی اے کے کچھ افسران کی نشاندہی کی، عبدالحفیظ شیخ کی کمپنی کو بلیک لسٹ قرار دے دیا گیا ہے، کنٹریکٹر حفیظ شیخ، ڈاکٹر فیصل کامران، رائے نواز کھرل، کامران لاشاری،اظہر چوہدری، بریگیڈئر ریٹائرڈ نصراللہ بھی ذمہ داروں میں شامل ہیں۔
احسن اقبال نے کہا کہ منصوبے سے بینک گارنٹی کی شرط نکالی گئی، اس پروجیکٹ میں اپارٹمنٹس غیر قانونی طور پر بیچے گئے، پروجیکٹ فائیو اسٹار ہوٹل کے طور پر منظور کروایا اور بعد میں اپارٹمنٹس بیچے گئے، رپورٹ میں منصوبے میں ملوث افراد میں عبدالحفیظ شیخ کو ماسٹر مائنڈ کہا گیا ہے، قومی خزانہ کو نقصان پہنچایا گیا، کئی پاکستانیوں سے دھوکے سے رقم حاصل کی، رپورٹ میں سفارش ہے کہ عبدالحفیظ شیخ کی کمپنی کو بلیک لسٹ کیا جائے، سفارش کی گئی کہ اس پروجیکٹ پر نظرثانی کرکے اصل مقصد کی طرف لے جایا جائے، سفارش کی گئی کہ پروجیکٹ کا نام تبدیل کیا جائے یہ نام جعل سازی سے حاصل کیا گیا۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی نے کہا کہ کانسٹیٹیوشن ایونیو کے نام سے پہلی عمارت وزارت خارجہ کی ہے، وزارت خارجہ کا دعویٰ ہے کہ یہ ان کا ایڈریس ہے، صرف مارکیٹنگ مقاصد کے لیے اس پروجیکٹ کو یہ ایڈریس دیا گیا، سفارش کی گئی جن لوگوں کو لوٹا گیا ان کا بھی تحفظ کیا جائے، طے کیا گیا کہ پروجیکٹ کے متاثرین کو معاوضہ دیا جائے گا، سفارش کی گئی ہے کہ تمام ریکارڈ کو ڈیجیٹیلائزڈ کیا جائے تاکہ کوئی خراب نہ کرسکے، نیب کو ہدایت کی گئی ہے کہ رپورٹ کی روشنی میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جائے، ہدایت کی گئی کہ ملوث افراد کو جہاں سے پشت پناہی رہی ان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے۔
احسن اقبال نے کہا کہ چوہدری نثار اور میرے دور میں بھی ایف آئی اے نے اس پروجیکٹ پر تحقیقات جاری رکھیں، اس پروجیکٹ کی دوبارہ شفاف طریقے سے بولی ہوگی، جس جس نے بھی سہولت کاری کی نیب سب کا کردار دیکھے گا۔
وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ جے آئی ٹی نے نیب کو معاملے کی تحقیقات کی سفارش کی ہے، ایک ہی شہر میں غریب اور امیر کا فرق نہیں ہو سکتا، ون کانسٹیٹیوشن ایونیو میں سرمایہ کاری کرنے والوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا، نیب میرٹ پر تحقیقات کرے گا، عبدالحفیظ شیخ کا نام ای سی ایل پر ہے۔
انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں کوتاہیوں کی نشاندہی کی ہے، یہ مساوات کا وہ عمل ہے جس کے تحت کوئی بھی قانون کے شکنجے سے باہر نہیں، جے آئی ٹی کی رپورٹ کو کابینہ میں سراہا گیا۔
طلال چوہدری نے کہا کہ 20 سال یہ منصوبہ چلتا رہا، دو بار کارروائی ن لیگ کے دور میں کی گئی، ون کانسٹیٹیوشن ایونیو میں بانی پی ٹی آئی نے بھی فلیٹ حاصل کیا، نیب کو رپورٹ میں ریفرنس لانے کیلئے تین ماہ کا وقت دیا گیا ہے، 20سال یہ پروجیکٹ چلتا رہا اور دو بار اس پروجیکٹ میں کارروائی ہوئی، سب کو موقع دیا گیا کہ اپنا دعویٰ ثابت کریں، سات سے آٹھ افراد پیش نہیں ہوئے نہ جانے انھوں نے فلیٹ کیسے حاصل کیے، پیش نہ ہونے والے ان 8 افراد میں بانی پی ٹی آئی بھی شامل ہیں، متعدد دفعہ ان لوگوں کو بلایا گیا زیادہ تر لوگ آئے کچھ نہیں آئے ان میں بانی پی ٹی آئی شامل ہیں۔
وزیر مملکت برائے داخلہ نے کہا کہ رپورٹ پر نیب میں 3 ماہ میں ذمہ داروں کے خلاف ریفرنس لایا جائے گا، منصوبے کے متاثرین کو ان کی رقم کائیبور سمیت واپس دلائیں گے۔
