امریکی ریاست نیویارک کے آٹھویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے ڈیموکریٹ رہنما حکیم جیفریز نے کامیابی حاصل کر لی۔
امریکی خبر ایجنسی کے مرتب کردہ ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق حکیم جیفریز نے 79.2 فیصد ووٹ حاصل کر کے ریپبلکن حریف لیوس مزراہی کو شکست دی۔
امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کا ایوانِ نمائندگان کا کنٹرول حاصل کرنے کی صورت میں حکیم جیفریز اسپیکر منتخب ہو سکتے ہیں، اگر ڈیموکریٹ ارکان نے انہیں اس عہدے کے لیے منتخب کیا تو وہ امریکی تاریخ کے پہلے سیاہ فام اسپیکر ہوں گے۔
اپنی کامیابی کے بعد حامیوں سے خطاب میں حکیم جیفریز نے کہا کہ America is Back، امریکی عوام نے اپنا فیصلہ سنا دیا اور واضح کر دیا ہے کہ وہ انتہا پسندی اور بدعنوانی سے تنگ آ چکے ہیں۔
حکیم جیفریز نے انتخابی نتائج کو تبدیلی کا مینڈیٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ڈیموکریٹس کو عوام کے لیے نمایاں تبدیلی لانا ہو گی کیونکہ بہت سے معاملات درست انداز میں کام نہیں کر رہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کرنے کے بعد رہائش، اشیائے خور و نوش اور پیٹرول کی بڑھتی قیمتیں کم کرنے کے لیے کام کریں گے۔
حکیم جیفریز نے کہا کہ تمام امریکیوں کو ضرورت کے وقت علاج کی سہولت میسر کرنے کی کوشش بھی کریں گے، یہ صرف ڈیموکریٹس کی نہیں بلکہ تمام امریکیوں کی کامیابی ہے، یہ کسی جماعت یا سیاسی رنگ کا نہیں بلکہ حب الوطنی کا لمحہ ہے۔
