متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے حکام نے ملک میں مختلف منشیات اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بناتے ہوئے مختلف خلیجی، عرب، افریقی اور ایشیائی ممالک سے تعلق رکھنے والے 20 مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا۔
مبینہ طور پر ایک بین الاقوامی جرائم پیشہ نیٹ ورک ان منشیات کو راس الخیمہ کے سرحدی علاقے کے ذریعے ملک میں داخل کرکے متحدہ عرب امارات کے مختلف حصوں میں تقسیم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔
اماراتی میڈیا کے مطابق کارروائی نیشنل اینٹی نارکوٹکس ایجنسی نے راس الخیمہ پولیس، عراق کے جنرل ڈائریکٹوریٹ برائے نارکوٹکس اینڈ سائیکوٹرپک سبسٹینسز اور وفاقی پبلک پراسیکیوشن کے تعاون سے کی۔
کارروائی کا آغاز متحدہ عرب امارات اور عراق کے درمیان انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کے بعد ہوا، جس کے نتیجے میں ایک کثیرالقومی نیٹ ورک کی جانب سے بڑی مقدار میں منشیات ملک میں لانے کے منصوبے کا پتا چلا۔
معلومات ملنے پر نیشنل اینٹی نارکوٹکس ایجنسی اور اس کے شراکت دار اداروں نے مشترکہ سیکیورٹی آپریشن ترتیب دیا۔ اس دوران بعض مشتبہ افراد کو منشیات سمیت اسمگلنگ کی کوشش کرتے ہوئے گرفتار کیا گیا، جبکہ باقی افراد کو ملک بھر میں مربوط چھاپوں کے دوران حراست میں لیا گیا۔
ایجنسی کا کہنا ہے کہ اس کارروائی سے منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث نیٹ ورکس کو بڑا دھچکا پہنچا ہے۔ اس نے سرحد پار جرائم کی روک تھام کے لیے علاقائی تعاون، انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے اور سیکیورٹی و عدالتی اداروں کے درمیان رابطے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
ادارے نے منشیات اسمگلنگ میں ملوث نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے شہریوں سے مشتبہ سرگرمیوں کی اطلاع متعلقہ حکام کو دینے کی اپیل کی ہے۔
