
امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک امیدواروں کی کامیابی کے بعد ارب پتی کاروباری شخصیت ایلون مسک کو 445 ملین ڈالرز سے زائد کے مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ گیا۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ریپبلکن پارٹی کو انتخابی مہم کے لیے 40 بڑے عطیہ دہندگان سے مجموعی طور پر 2.4 ارب ڈالرز موصول ہوئے جن میں تقریباً 445 ملین ڈالرز ایلون مسک کی جانب سے دیے گئے تھے۔
ایلون مسک نے ٹیکساس میں ریپبلکن اٹارنی جنرل کین پیکسٹن کی انتخابی مہم میں تقریباً 200 ملین ڈالرز کی سرمایہ کاری کی تھی تاہم ڈیموکریٹک امیدوار جیمز ٹیلاریکو نے انہیں شکست دے دی، اسے ایلون مسک کی وسط مدتی انتخابی مہم کی سب سے بڑی انفرادی سرمایہ کاری قرار دیا گیا تھا۔
ٹیکساس کے گورنر کے انتخاب میں بھی ڈیموکریٹک امیدوار جینا ہینوجوسا کامیاب رہیں جبکہ آئیووا، کنساس، نارتھ کیرولائنا، اوہائیو، ساؤتھ کیرولائنا اور مین سمیت 6 دیگر ریاستوں میں سینیٹ کی نشستیں ریپبلکن پارٹی سے ڈیموکریٹس نے حاصل کر لیں۔
انتخابی نتائج پر ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے ایلون مسک نے طنزیہ انداز میں کہا ہے کہ لگتا ہے کہ اس مرتبہ انتخابات پر اثر انداز ہونے کے لیے میری خلائی لیزر ٹیکنالوجی بھی کام نہیں آئی۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ان نتائج کو امریکی سیاست میں ایک تاریخی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔
کنساس میں ایڈم ہیملٹن نے تقریباً ایک صدی بعد گریٹ ڈپریشن کے دور کے بعد پہلی مرتبہ ڈیموکریٹک امیدوار کی حیثیت سے سینیٹ کی نشست جیتی ہے۔
اوہائیو میں ڈیموکریٹک امیدوار شیروڈ براؤن نے نائب صدر جے ڈی وینس کی سابق سینیٹ کی نشست حاصل کر لی جبکہ ٹیکساس میں جیمز ٹیلاریکو نے بھاری بیرونی مالی معاونت کے باوجود کین پیکسٹن کو شکست دی۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ ٹیکساس اور اوہائیو دونوں ریاستوں نے 2024ء کے صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کو 10 فیصد سے زائد ووٹوں کی برتری سے کامیاب کروایا تھا۔



