
ایرانی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ابوالفضل شکارچی نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف امریکا کی جارحانہ پالیسیاں خود واشنگٹن کے لیے مشکلات کا سبب بن رہی ہیں، امریکی حکومت کو اندرونی بحرانوں اور عالمی سطح پر ساکھ میں کمی کا سامنا ہے۔
تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق ابوالفضل شکارچی کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے سیاسی اتحادیوں کو مسلسل سیاسی اور انتخابی ناکامیوں کا سامنا ہے، جو محض ملکی سیاست میں اتار چڑھاؤ نہیں بلکہ ایران کے قومی عزم کو شکست دینے میں امریکا کی ناکامی کا مظہر ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکی جارحیت، ٹارگٹ کلنگ اور زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی مؤثر ثابت نہیں ہوئی جبکہ امریکی فوجی حکمت عملی بھی ایران کی دفاعی صلاحیت اور مسلح افواج کے عزم کے سامنے ناکام رہی ہے۔
ایرانی فوج کے ترجمان کے مطابق مشرق وسطیٰ سمیت دنیا کے مختلف خطوں میں امریکا کو درپیش ناکامیوں، امریکی جنگی بحری بیڑوں اور فوجی ساز و سامان کی دھاک ختم ہونے اور ایران کو دھمکانے کی امریکی کوششوں میں تعطل نے وائٹ ہاؤس کی طاقت کی بنیادیں ہلادی ہیں۔
ابوالفضل شکارچی نے الزام عائد کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے انتہا پسند ساتھی ایران کو تباہ کرنے کے ارادے سے اس محاذ آرائی میں داخل ہوئے تھے، تاہم صورتحال اس کے برعکس ہوگئی اور اب امریکا کو طویل المدتی دباؤ، اندرونی بحرانوں اور ایرانی مسلح افواج و مزاحمتی محاذ کی جانب سے ناکامیوں کا سامنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ صورتحال اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی طاقت کا توازن ہمیشہ بڑی طاقتوں کے حق میں نہیں رہتا۔ ایران کے عزم اور ثابت قدمی کا مقابلہ کرنے والی کسی بھی طاقت کو بالآخر عالمی رائے عامہ میں اپنی ساکھ اور اثر و رسوخ کے زوال کا سامنا کرنا پڑے گا۔



