امریکی ریاست مشی گن میں سینیٹ کے ڈیموکریٹ امیدوار عبدالسید کو مسلم شناخت اور عرب پسِ منظر کی بنیاد پر نفرت انگیز مہم کا سامنا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ریپبلکن رہنماؤں نے عبدالسید پر مسلم تنظیموں اخوان المسلمون، حماس، حزب اللّٰہ اور ایران سے تعلقات کے الزامات عائد کیے ہیں تاہم ان دعوؤں کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سابق امریکی صدر بارک اوباما کی انتخابی تقریب کے باہر دائیں بازو کے کارکن جیک لینگ نے مسلم مخالف نعرے لگائے اور مسلمانوں کو امریکا چھوڑنے کی دھمکیاں دیں، مظاہرین نے ریپبلکن سینیٹ امیدوار مائیک راجرز کے حق میں بینرز بھی اٹھا رکھے تھے۔
ڈیئربورن کے میئر عبداللّٰہ حمود کے مطابق شہر کو روزانہ مسلم مخالف دھمکیاں موصول ہو رہی ہیں، نفرت انگیز مہم کا جمہوری جواب عبدالسید کو سینیٹ میں منتخب کروانا ہے۔
عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ عبدالسید کو جہادی قرار دے چکے ہیں جبکہ وزیرِ صحت رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر نے عربوں کی سائنسی اور ادبی صلاحیتوں پر بھی سوال اٹھائے ہیں، سینیٹر ٹیڈ کروز نے بھی عبدالسید کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔
مشی گن اسٹیٹ یونیورسٹی کے سروے کے مطابق ممکنہ ووٹرز میں سے 38 فیصد نے کہا ہے کہ کسی امیدوار کا مسلمان ہونا انہیں اس کی حمایت سے روک سکتا ہے۔
دوسری جانب مسلم اور عرب رہنماؤں نے نفرت انگیز مہم میں اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کے بیانات سے نسل پرستی اور اسلام دشمنی کو تقویت مل رہی ہے۔
ایسی صورتِ حال کے پیشِ نظر کانگریس کی رکن راشدہ طلیب نے کہا ہے کہ مسلم مخالف اشتہارات اور نفرت انگیز بیانات کے باعث مجھے اپنے بچوں کی فکر ہے۔
مسلم رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ایسی مہمات سے کمیونٹی کے تحفظ اور معاشرتی ہم آہنگی کو خطرات لاحق ہیں۔
عرب اور مسلم رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ایران جنگ، مہنگائی اور پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں جیسے حکومتی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے مسلمانوں کو نفرت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
