
روس نے یوکرین جنگ کے ممکنہ تصفیے اور یورپ کے مستقبل کے سیکیورٹی نظام سے متعلق مذاکرات میں تاحال اپنا نمائندہ نامزد کرنے میں ناکامی پر یورپی ممالک کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے گزشتہ روز اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ مستقبل میں روس اور یوکرین کے درمیان باہمی سیکیورٹی ضمانتوں سے متعلق مذاکرات میں یورپ کی شمولیت ناگزیر ہو گی، یورپی ممالک تاحال یہ فیصلہ نہیں کر سکے کہ ان کی جانب سے کون بات کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ روس کو یورپی ممالک کی جانب سے اب تک کوئی تجاویز موصول نہیں ہوئیں اور نہ ہی روس کسی مشترکہ مؤقف سے آگاہ ہے۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ یورپ کے مستقبل کے سیکیورٹی نظام پر بات چیت میں یورپی ممالک کو شامل کرنا ضروری ہو گا لیکن ان کی جانب سے مسلسل فیصلہ نہ کر پانا اور نمائندہ منتخب کرنے میں تاخیر واضح ہے۔
واضح رہے کہ حال ہی میں برسلز میں امریکا، یوکرین، نیٹو اور یورپی شراکت داروں کے درمیان یوکرین کے لیے سیکیورٹی ضمانتوں اور یورپ کے وسیع تر سیکیورٹی نظام پر اجلاس ہوا تھا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی جمعرات کو ایک بڑے معاہدے کا ذکر کیا تھا جس میں پورا یورپ شامل ہو سکتا ہے۔



